ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / بھاجپاکے زیرِ اقتدار ریا ست میں شوہروں کے’برے دن‘! ، مدھیہ پردیش میں ہر ماہ اوسطاََ200 شوہراپنی بیگموں سے پِٹتے ہیں 

بھاجپاکے زیرِ اقتدار ریا ست میں شوہروں کے’برے دن‘! ، مدھیہ پردیش میں ہر ماہ اوسطاََ200 شوہراپنی بیگموں سے پِٹتے ہیں 

Mon, 14 May 2018 01:49:58    S.O. News Service

بھوپال:13/مئی (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)مردوں کا غلبہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ مارپیٹ کو عام رجحان سمجھا جاتا ہے اور بہت سے معاملات میں تو خواتین اس بارے میں شکایت تک نہیں کرتیں۔ اب زمانہ بدل رہا ہے، اعداد و شمار بتا رہے ہیں کہ خواتین کے ہاتھوں پٹنے والے مرد بھی کم نہیں ہیں اور وہ اس کی پٹائی کی باقاعدہ شکایت بھی کرنے لگے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں جرائم کے خلاف فوری کارروائی کے لیے کچھ سال پہلے شروع کی گئی سروس  ڈائل 100  کے تعلقات عامہ کے حکام ہیمنت کمار شرما نے اس سروس پر ملی شکایات کی بنیاد پر بتایا کہ مدھیہ پردیش میں اوسطا ہر ماہ 200 شوہروں کی اپنے ہی گھر میں بیویوں سے پٹائی ہو جاتی ہے۔ریاست میں شہروں کے لحاظ سے دیکھا جائے تو ریاست کی اقتصادی دارالحکومت اور میٹروپولیٹن اندور اس معاملہ میں سرفہرست ہے۔ یہاں جنوری سے اپریل 2018 تک چار ماہ میں 72 شوہروں نے اپنی بیویوں کے ہاتھوں پٹائی کی شکایت پولیس میں درج کروائی جبکہ دوسرے مقام پر رہتے ہوئے راجدھانی بھوپال کے 52 شوہروں نے اپنی بیویوں کے خلاف شکایت درج کروائی ہے۔ اسی مدت میں پوری ریاست میں 802 شوہروں نے بیوی کی طرف سے تشدد کی شکایت درج کروائی ہے۔ افسر نے بتایا کہ جنوری 2018 سے ڈائل 100 کی ٹیم نے اس نمبر پر فون کرنے والوں کے لئے دیگر اقسام کے ساتھ ہی زوجین واقعات کی ایک نئی قسم تیار کی۔ اب تک یہ اعداد و شمار گھریلو تشدد کی وسیع زمرے میں ہی شامل کئے جاتے تھے اور ان کا الگ سے کہیں ذکر نہیں کیا جاتا تھا۔ یوں بھی یہ عام تاثر یہ ہے کہ گھریلو تشدد صرف خواتین کے ساتھ ہی ہوتا ہے، جبکہ بیٹنگ ہسبینڈ واقعہ کے زمرہ کے قیام کے بعد تصویر کا دوسرا رخ بھی سامنے آیا ہے۔شرما نے بتایا کہ ڈائل 100 نے جنوری سے ریاست میں بیٹگ ہسبینڈ واقعہ اور بیٹگ بیوی واقعہ کے زمرے کو گھریلو تشدد کے زمرے سے الگ کر دیا۔ نتیجہ یہ رہا کہ جنوری 2018 سے اپریل تک چار ماہ کی مدت میں ڈائل 100 کے ریاستی سطح کنٹرول پینل میں 802 شوہر اپنے گھر میں بیوی کے ہاتھوں پٹائی کی شکایت درج کروا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے مقابلے میں بیویوں کی پٹائی کے معاملے اگرچہ بہت بڑی تعداد میں درج ہوئے ہیں۔ ان چار مہینوں میں بیوی سے مارپیٹ کی شکایت 22 ہزار سے زیادہ درج ہو ئی ہیں۔


Share: